انوکھی وضع سارے زمانے سے نرالے ہیںیہ عاشق کونسی بستی کے یا رب، رہنے والے ہیںجہاں میں ہیں عبرت کے ہر سُو نمونےمگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بُو نےکبھی غور سے بھی دیکھا ہے تو نےجو معمور تھے وہ محل اب ہیں سُونے